Wednesday, 28 January 2015

علی سفیان آفاقی انتقال کر گئے








لاہور + اسلام آباد (کلچرل رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+ نمائندہ خصوصی) ممتاز صحافی، مصنّف، فلم ساز، ڈائریکٹر اور نوائے وقت گروپ کے زیراہتمام شائع ہونیوالے ہفت روزہ فیملی میگزین کے بانی ایڈیٹر علی سفیان آفاقی 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ چند روز سے صاحبِ فراش تھے۔ علی سفیان آفاقی کو مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی جن میں ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت سعید آسی، ڈائریکٹر فنانس اعظم بدر، چیف رپورٹر خواجہ فرخ سعید، لاہور پریس کلب کے نائب صدر ندیم بسرا، ایڈیٹر پھول شعیب مرزا، ایڈیٹر ندائے ملت انیس الرحمن شامل تھے۔ 22 اگست 1933ء کو مسلمان ریاست بھوپال کے ضلع سیہور میں پیدا ہونیوالے علی سفیان آفاقی نے بھوپال اور میرٹھ سے تعلیم حاصل کی۔ بی اے آنرز کرنے کے بعد 1951ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے اخبار ’’تسنیم‘‘ سے عملی صحافت کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ہفت روزہ چٹان، اقوام، آثار، روزنامہ آفاق اور روزنامہ نوائے وقت میں مختلف اوقات میں خدمات انجام دیں۔ فلمی ریویو پاکستان میں سب سے پہلے انہوں نے روزنامہ آفاق میںشروع کیا تھا۔ آفاق، نوائے وقت، امروز، احسان اور جنگ میں وہ دام خیال اور دریچے کے نام سے مختلف اوقات میں کالم بھی لکھتے رہے۔ ہفت روزہ فیملی میگزین نے انکی ادارت میں کامیابی کی بہت سی منازل طے کیں اور اسوقت وہ ملک کا ایک معروف اور مؤقر جریدہ ہے۔ صحافت کے ساتھ انہوں نے فلموں میں بھی بہت نام کمایا۔ 1957ء میں اپنے دوست شباب کیرانوی کیساتھ ملکر ایک فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘بنائی۔ 1958ء میں ایوبی مارشل لاء کے دوران جب صحافت کو بیڑیاں پہنائی گئیں تو انہوں نے دلبرداشتہ ہوکرصحافت سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور فلم انڈسٹری کیساتھ منسلک ہو گئے۔ ڈائریکٹر اور فلم ساز حسن طارق کیساتھ ان کی جوڑی نے فلم انڈسٹری کو کئی لازوال فلمیں دیں۔ 1965ء میں حسن طارق کیساتھ ملکر بطور فلم ساز رُجحان ساز فلم کنیز بنائی جس کی کہانی انہوں نے لکھی تھی۔ اس کے بعد ایک اور فلم ’’میرا گھر میری جنت‘‘بنائی۔ فلم’’سزا‘‘ انہوں نے اکیلے بنائی جس میں جمیل اور روزینہ کی جوڑی کو متعارف کرایا۔ 1972ء میں بطور مصنّف، ہدایت کار اور فلم ساز فلم ’’آس‘‘بنائی جس کے بعد بے شُمار فلموں کی کہانیاں لکھیں جن میںآدمی، آج کل، فرشتہ، جوکر، قتل کے بعد، ایک ہی راستہ، آسرا، عدالت، شکوہ، دیوانگی، فاصلہ، آرپار، کبھی الوداع نہ کہنا، نیاسفر، میں وہ نہیں، عندلیب، میرے ہمسفر، مہربانی، گمنام، بندگی، کامیابی، ہم اورتم، پلے بوائے، مِس کولمبو، دامن اور چنگاری، دیور بھابھی، دل ایک آئینہ، محبت، الزام، انتظار، انسانیّت، دوستی، نمک حرام، بیٹا، معاملہ گڑبڑ ہے، ویری گڈدُنیا ویری بیڈلوگ اور دیگر شامل ہیں۔ ان کی فلمیںآس، اجنبی اور صائقہ تاشقند فلمی میلے میں بھی بھجوائی گئیں جہاں روس کی کئی زبانوں میں ان کے تراجم ہوئے۔ علی سفیان آفاقی کو 8 بار نگار، 6 بارگریجوایٹ اور ایک ایک بار فلم کرٹک اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے 28کے قریب کتابیں لکھیںجن میں فلمی الف لیلیٰ سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ وہ فلمی دُنیا کا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ مرحوم نوائے وقت کے ساتھ سابق سینئر سٹاف رپورٹر جاوید یوسف کے ماموں تھے۔

No comments: